شام کی حویلی میں
Poet: Noshi Gillani By: Shazia Hafeez, Attockاک برس کے عرصے میں
چار چھ ملاقاتیں
شام کی حویلی میں
صبح کے مہکنے کی بے یقین سی باتیں
کچھ عذاب ماضی کے
گفتگو کا موضوع تھے
کچھ سوال خوابوں کے
کچھ جواب آنکھوں کے مشترک سے جذبوں کے
آئینوں میں دیکھے تھے
آئینے تو سچے تھے
اور وہ ملاقاتیں
چار چھ ملاقاتیں
جن میں تیری باتوں کی بارشوں کے موسم نے
جتنے جھوٹ بولے تھے
شام کی حویلی میں جتنے زہر گھولے تھے
تیرا بے وفا لہجہ دھیان میں جب آتا ہے
تب سوال کرتی ہیں
میری عمر کی راتیں
اک برس کے عرصے میں
چار چھ ملاقاتیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







