شام کے بعد
Poet: Jawad Shigri By: Jawad Shigri, karachiآج جب آگیا تیرا ہی ذکر شام کے بعد
احتراماً جھکا تعظیم کو سر شام کے بعد
نہ ہوا سر کبھی غالب کو تیرا زلف دراز
کردیا میں نے اسی زلف کو سر شام کے بعد
کرتے ہیں اہل جہاں شب کو منور یہ چراغ
کیوں جلاتے ہو میرے قلب و جگر شام کے بعد
بارہا دل نےکہا رات گزاروں تیرے در
جب بھی ہوتا ہے تیرےدر سےگزر شام کے بعد
جان من کیوں نہیں آتی ہے تیری یاد مجھے
یاد کرتا ہوںبہت تم کو مگر شام کے بعد
ہائے اس عمر میں در در پہ پھرا کرتا ہوں
میں سدا تھام کےکہتا ہوں کمر شام کے بعد
شب کو آرام کےطالب ہو اگر تم جواد
باندھتے کیوں ہو سدا رخت سفر شام کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






