شام ہوتے تیری محبت کی ہر گام ہوا چلتی ہے
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratشام ہوتے تیری محبت کی ہر گام ہوا چلتی ہے
حنوط یاد کی باد صبا چلتی ہے
مہکنے لگ جاتی ہے میری ذات
حسن وفا سے جو یاد جان وفا چلتی ہے
دل نشین تیور، رمزوایما، قیامت سی برسیں
گھلاوٹ، لگاوٹ، سجاوٹ کی جب گھٹا چلتی ہے
کومل کومل لہجہ، بہار بہار موسم
تجھکو کیا معلوم مجھ پر کیسے تیری ادا چلتی ہے
تجھکو الگ سوچوں تو کچھ نہیں بچتا میرے پاس
تجھکو خود سے نکال کر میری ذات مجھ سے جدا چلتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






