شانے کے لیئے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہتو ہے کہ جس کے واسطے طعنے زمانے کے لیئے
بے چین آنے کے لیئے، بے صبر جانے کے لیئے
دل کا لگانا کیا میاں، دھوکے میں آنا کیا میاں
آیا تو ہوں میں بھی مگر پھر لوٹ جانے کے لیئے
ایسا حسیں مُکھڑا کبھی دیکھا نہیں ہے با خدا
چہرہ تلاوت کے لیئے، زلفیں ہیں شانے کے لیئے
دل کو جلا کے رکھ دیا، شعلہ بنا کے رکھ دیا
لب پر سجا لی ہے ہنسی میں نے لٹانے کے لیئے
خوفِ خدا بھی وصف ہے، آدم کا اس میں امتحاں
دولت بھی دی، طاقت بھی دی ہے آزمانے کے لیئے
جو داستانِ عشق ہے،اس میں بڑی لذّت سہی
کچھ ہے حقیقت بھی مگر، کچھ ہے فسانے کے لیئے
کس کس کے چہرے سے اتاریں دوغلے پن کا نقاب
بکتے ہوئے دیکھے کئی آنے دوانے کے لیئے
اپنی مرادیں لوگ سب لے کر چلے اس دہر سے
ہم ہی فقط آئے یہاں آنسو بہانے کے لیئے
تم جو ملے تو یوں لگا منزل مری مل ہی گئی
تھی چاہیے اک تھاں مجھے دل کے ٹھکانے کے لیئے
حسرتؔ سبھی کی عاقبت بنتی ہوئی دیکھی یہاں
میں بھی چلا آیا تجھے اپنا بنانے کے لیئے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






