شانے کے لیئے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہتو ہے کہ جس کے واسطے طعنے زمانے کے لیئے
بے چین آنے کے لیئے، بے صبر جانے کے لیئے
دل کا لگانا کیا میاں، دھوکے میں آنا کیا میاں
آیا تو ہوں میں بھی مگر پھر لوٹ جانے کے لیئے
ایسا حسیں مُکھڑا کبھی دیکھا نہیں ہے با خدا
چہرہ تلاوت کے لیئے، زلفیں ہیں شانے کے لیئے
دل کو جلا کے رکھ دیا، شعلہ بنا کے رکھ دیا
لب پر سجا لی ہے ہنسی میں نے لٹانے کے لیئے
خوفِ خدا بھی وصف ہے، آدم کا اس میں امتحاں
دولت بھی دی، طاقت بھی دی ہے آزمانے کے لیئے
جو داستانِ عشق ہے،اس میں بڑی لذّت سہی
کچھ ہے حقیقت بھی مگر، کچھ ہے فسانے کے لیئے
کس کس کے چہرے سے اتاریں دوغلے پن کا نقاب
بکتے ہوئے دیکھے کئی آنے دوانے کے لیئے
اپنی مرادیں لوگ سب لے کر چلے اس دہر سے
ہم ہی فقط آئے یہاں آنسو بہانے کے لیئے
تم جو ملے تو یوں لگا منزل مری مل ہی گئی
تھی چاہیے اک تھاں مجھے دل کے ٹھکانے کے لیئے
حسرتؔ سبھی کی عاقبت بنتی ہوئی دیکھی یہاں
میں بھی چلا آیا تجھے اپنا بنانے کے لیئے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






