شاہ کا تاج محل پیسوں سے تعمیر ہوا
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمیری توقیر تھا اب باعث تحقیر ہوا
ایک ہی شخص مرے نام کی تشہیر ہوا
اس کے صدموں کو عیاں کرنے لگا بن چاہے
میرے اشعار میں جو حرف بھی تحریر ہوا
اب کسی اور طرف میرے قدم اٹھتے نہیں
کیسی وہ شخص مرے پاؤں کی زنجیر ہوا
لوگ کہتے ہیں اداسی ہے مری آنکھوں میں
واقعہ کس کے بچھڑنے کا یوں تصویر ہوا
جو تھے مفلس وہ محبت کو عیاں کر نہ سکے
شاہ کا تاج محل پیسوں سے تعمیر ہوا
حکمرانی تو سدا ہی سے محبت کی رہی
زور بازو سے تو دل کوئی نہ تسخیر ہوا
تجھ کو معلوم نہیں آج بھری محفل میں
کتنا اک شخص تری با توں سے دل گیر ہوا
جھوٹ کہنے پہ زمانے نے سراہا مجھ کو
بات جب حق کی کہی لائق تعزیر ہوا
اس کے دل میں بھی تمنا ہے مجھے ملنے کی
آ تو جاتا مگر وقت عناں گیر ہوا
تم رواں کہتے ہو ہر ایک غزل پر زاہد
اس روانی میں تو استاد فقط “ میر “ ہوا
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






