شاہراہِ زیست پہ چلنا بہت دشوار ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجائیں نہ دور اپنی رفاقت کی زندگی
ایسے خفا نہ ہوں اجی چاہت کی زندگی
غصے میں آ کے اور حسیں ہو گئے ہیں آپ
بس اپنے دل کو پیار کی سعادت کی زندگی
آداب کہہ دوں اتنی اجازت تو دیجیے
ایسے خفا نہ ہوں کہ حقارت کی زندگی
اک دن قریب آ کے سنیں گے مری صدا
کر کے رہے گی کچھ یہ شرافت کی زندگی
غصہ ہے آج پیار بھی آ جائے گا کبھی
کچھ ہم پہ اعتبار بھی ندامت کی زندگی
ایسے خفا نہ ہوں اجی چاہت تو دیجیے
دکھلائیں دل کو چیر کے الفت کی زندگی
پھر دیکھیے لٹاؤں گا الفت کے میں گلاب
مانوں گا حکم جو بھی کرامت کی زندگی
اک بار مجھ کو تھوڑی محبت تو دیجیے
ّّ"تُو نے تو بخش دی ہمیں ذلت کی زندگی"
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






