شاہین یہ کیسی شناسائی ھے کہ میری جان پہ بن آئی ھے
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal , gjn اے دل تو کیوں مضطرب رہنے لگا ھے
تیری ہر دھڑکن پہ کس کا
قبضہ ھونے لگا ھے
سرد مزاجی کے بادل چھٹنے سے
لگے ہیں
اک تیرا نام کیا لیا ،کمال مجھ میں
ابھرنے لگے ہیں
جب سے تو دل کی بستی میں ہے
کائنات کی ہر شے مستی میں ہے
اوراق دل پہ جب سے تیرا نام
لکھا ہے
قلم بھی رواں ہونے لگا ہے
پھر بھی یہ کیسا کرب ہے
کتنا پر درد مگر سچ ہے،
اس بے بسی کا اپنا ہی مزا ہے
دل سے صدائیں آتیں ہیں
لب خاموش مگر
آنکھیں پانی ہو جاتی ہیں
کیا کروں کیا نہ کروں
اب چلوں یا رکوں
روؤں یا ہنسوں
جیوں یا مروں
حالت گومگو
سب کس سے کہوں
کاش مجھے لے وہ سمجھ
جو ہے بےخبر
کاش میرے دل کی رکھےکچھ تو خبر
میری زندگی بھی عجیب کتاب ہے
تو اس کا پہلا مگر دلچسپ باب ہے
تیرے ہی خیالوں میں کھونے لگی ہوں
بات بات پہ سلگنے لگی ہوں،
سسکنے،رونے لگی ہوں
خود ہی روٹھنے،ماننے لگی ہوں
اب تو ہی بتا اے رہبر شاہین
یہ کیسی شناسائی ہے
کہ میری جان پہ بن آئی ہے
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






