شاہین یہ کیسی شناسائی ھے کہ میری جان پہ بن آئی ھے

Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal , gjn

 اے دل تو کیوں مضطرب رہنے لگا ھے
تیری ہر دھڑکن پہ کس کا
قبضہ ھونے لگا ھے
سرد مزاجی کے بادل چھٹنے سے
لگے ہیں
اک تیرا نام کیا لیا ،کمال مجھ میں
ابھرنے لگے ہیں
جب سے تو دل کی بستی میں ہے
کائنات کی ہر شے مستی میں ہے
اوراق دل پہ جب سے تیرا نام
لکھا ہے
قلم بھی رواں ہونے لگا ہے
پھر بھی یہ کیسا کرب ہے
کتنا پر درد مگر سچ ہے،
اس بے بسی کا اپنا ہی مزا ہے
دل سے صدائیں آتیں ہیں
لب خاموش مگر
آنکھیں پانی ہو جاتی ہیں
کیا کروں کیا نہ کروں
اب چلوں یا رکوں
روؤں یا ہنسوں
جیوں یا مروں
حالت گومگو
سب کس سے کہوں
کاش مجھے لے وہ سمجھ
جو ہے بےخبر
کاش میرے دل کی رکھےکچھ تو خبر
میری زندگی بھی عجیب کتاب ہے
تو اس کا پہلا مگر دلچسپ باب ہے
تیرے ہی خیالوں میں کھونے لگی ہوں
بات بات پہ سلگنے لگی ہوں،
سسکنے،رونے لگی ہوں
خود ہی روٹھنے،ماننے لگی ہوں
اب تو ہی بتا اے رہبر شاہین
یہ کیسی شناسائی ہے
کہ میری جان پہ بن آئی ہے
 

Rate it:
Views: 617
07 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL