شب بھر تیری یادوں کا نیا زخم ہے کھایا

Poet: Zubair Tarar By: zubair tarar, vehari

شب بھر تیری یادوں کا نیا زخم ہے کھایا
دل نے میری بربادی کا یوں جشن منایا
جس شام بھی محبوب میرے یاد تو آیا
پھر صبح تلک آنکھ سے اشکوں کو بہایا
سینے میں ہے ہر شخص نے نفرت کو دبایا
یوں میں نے محبت کا ثمر دنیا سے پایا
اس شوخ نے مجھ کو نہ کبھی پاس بلایا
ظالم کی مگر یاد نے ہر وقت ستایا
احساس محبت سے یہ دنیا تو ہے خالی
سو قصہ محبت کا ہے تاروں کو سنایا
دھرتی مجھے جنت کا کوئ باغ لگے ہے
جب سے ہے تجھے جان چمن دل میں بسایا
کہنے لگی مردے کو نہیں مارتا کوئی
جب زخم جگر میں نے اجل کو ہے دکھایا
سسی کی طرح سوئ تھی جب درد نے چھیڑا
یادوں نے تیری آن کے پھر مجھ کو جگایا
چلتی ہیں زبیر ان سے بچھڑ کے بھی یہ سانسیں
ہاں حوصلہ دل نے بھی یہ کیا خوب دکھایا

Rate it:
Views: 533
21 Oct, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL