شب غم فرقت ہمیں کیا کیا

Poet: Mumen Khan By: Kamal Khan, karachi

شب غم فرقت ہمیں کیا کیا مزے دکھلائے تھا
دم رکے تھا سینے میں کم بخت گھبرائے تھا

یا تو دم د یتا تھا یا وہ نا مہ بر بہکائے تھا
تھے غلط پیغام سارے یہاں کون تک آیا تھا

بل بے عیاری عدو کے آگے وہ پیماں شکن
وعدے وصل آج پھر کرتا تھا اور شرمائے تھا

سن کے میری مرگ بولے مر گیا اچھا ہوا
کیا برا لگتا تھا جس دم سامنے آجائے تھا

بات شب کو اس سے منع بے قراری پر بڑھی
ہم تو سمجھے اور کچھ وہ کچھ اور سمجھائے تھا

کوئی دن تو اس پہ کیا تصویر کا عالم رہا
ہر کوئی حیرت کا پتلا د یکھ کر بن جائے تھا

ہو گئی مد و روز کی الفت میں کیا حالت ابھی
مومن وحشی کو دیکھا اس طرف سے جائے تھا

Rate it:
Views: 795
26 Jul, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL