شب کے سینے میں کچھ سلگتے ہیں -
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاشب کے سینے میں کچھ سلگتے ہیں -
زندگی کے چراغ جلتے ہیں
میری آنکھوں میں قید ہیں دریا
پھر سمندر کہاں نکلتے ہیں
بڑھتی جاتی ہے روز تشنہ لبی
روز سانسوں میں خون جلتے ہیں
اُس سے ملنے کی اب بھی حسرت ہے
وعدہ کر کے بھی جو مکرتے ہیں
ان کو دنیا ، وفا سے کیا لینا
رنگ پل پل میں وہ بدلتے ہیں
جب سے جنگل میں آ بسی وشمہ
شہر آتش بہ پا ہے جلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






