شب کے ماروں سے کھیلنا ہو گا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاشب کے ماروں سے کھیلنا ہو گا
جب بھی اپنوں سے کھیلنا ہو گا
پھول کھلتے نہیں چمن میں اگر
ہم کو کانٹوں سے کھیلنا ہو گا
دل بھی بہلے گا آج پہلو میں
تیری یادوں سے کھیلنا ہو گا
اب تری یاد کو بھلانے میں
دل کے زخموں سے کھیلنا ہو گا
رات اتری ہے آنکھ میں جب تو
سارے سپنوں سے کھیلنا ہو گا
اپنے آنگن میں کھل گئے ہیں اگر
وشمہ پھولوں سے کھیلنا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






