شبنمِ عشق کو تڑپتا ہے گلِ دل میرا
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiشبنمِ عشق کو تڑپتا ہے گلِ دل میرا
اب تو آنکھوں ہی کی بارش سے دھلے دل میرا
جذبہءِ عشق کے عوض بیچنے نکلا دل کو
آہ مگر جذبہءِ نفرت سے تلے دل میرا
دستکیں لاکھ ہوئی بندشِ دل کھل نہ سکی
اب کوئی ایسے پکارو کہ کھلے دل میرا
میں کبھی اور کہیں جو باٹنا چاہو دل کو
مجھ کو ملتا نہیں سینے میں کلِ دل میرا
رسوا احسن ہے زمانے میں یہ جذبے لے کر
اور جذبوں کے تعاقب میں رلے دل میرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







