شبِ غم کا تیری سویرا نہ ہو گا

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگ

شبِ غم کا تیری سویرا نہ ہو گا
تو جس کا ہے شاید وہ تیرا نہ ہو گا

مری بِین سننے کو ترسے گی ناگن
کہ جب گاؤں میں یہ سپیرا نہ ہو گا

بڑی شان تیرے بھَوَن کی بڑھے گی
اِدھر ایک خیمہ جو میرا نہ ہو گا

چمن سے بہاریں خفا ہی رہیں گی
اگر پنچھیوں کا بسیرا نہ ہو گا

یہ بستی شریفوں کی بستی ہے ساری
اِدھر کون ہے جو لٹیرا نہ ہو گا

بڑے لوگ پاپوں میں ڈوبیں گے کیسے
اگر ہر طرف ہی اندھیرا نہ ہو گا

اِدھر کوئی رہزن بھی ایسا نہیں ہے
جسے ہاتھ رہبر نے پھیرا نہ ہو گا
 

Rate it:
Views: 333
20 Aug, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL