شرابوں میں نہ مجھ کو ڈوب جانا چاہئے تھا

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

شرابوں میں نہ مجھ کو ڈوب جانا چاہئے تھا
مجھے تو اور لوگوں کو بچانا چاہئے تھا

جو کھائیں در بدر کی ٹھوکریں تو خیال آیا
نہ اپنے ہاتھوں گھر اپنا جلانا چاہئے تھا

پھٹے کپڑے بدن ہے چاک تنہا گھومتا ہے
جسے پھولوں سے کل تک دوستانہ چاہئے تھا

میں سیدھا سادہ انساں کیسے فنکاروں میں رہتا
مجھے کچھ فن زمانے والا آنا چاہئے تھا

جو ہر اک شخص ہی اب بےوفا کہتا ہے اس کو
مجھے غم اپنا لوگوں سے چھپانا چاہئے تھا

یہ رنج و غم کا عالم بزم میں برپا نہ ہوتا
نہ شعر اپنا وہاں مجھ کو سنانا چاہئے تھا

مری مانند گر مجھ سے محبت تھی اسے تو
میں روٹھا تھا اسے مجھ کو منانا چاہئے تھا

جو ہر اک بات پر لڑنے کی اس نے ٹھان لی تھی
اسے شاید بچھڑنے کا بہانہ چاہئے تھا

کچھ ایسے بھی ہمیں باقرؔ بچھڑنا پڑ گیا کہ
مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

Rate it:
Views: 454
13 May, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL