شرطہ یہ نہیں کہ میرے ہو جائو تُم
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaشرطہ یہ نہیں کہ میرے ہو جائو تُم،
میں تو کہتا ہوں مجھے اپنائو تُم،
ستم کرو، جفا کرو، ظلم کی انتہا کرو
مگر یار مجھ سے نہ دُور جائو تُم،
کرو اپنی مرضی جو جی چاہے تیرا
دن میں اِک بار ضرور شکل دِکھائو تُم،
تڑپتا ہوں تو تڑپنے دو مجھے شام و سحر
مرہم نہ سہی مگر پاس بیٹھ جائو تُم،
نہ سُنو میری گر اچھی نہیں لگتی آواز میری
میں خاموش ہوں چلو اپنی سُنائو تُم،
دے دو مجھے تمام پریشانیاں صنم اپنی
بس مسکرائو تُم، بس مسکرائو تُم،
اپنے آنسوئوں کی دولت دے دو مجھے
دلِ غریب کو آج شہنشاہ بنائو تُم،
صبرِ انتظار کے دامن چُھوٹ رہے ہیں
خدا کا واسطہ ہے جاناں! لوٹ آئو تُم،
عاشقِ دلگیر ہوں جا رہا ہوں تیری دنیا سے
اِک آخری بار دیدارِ حُسن کا جام پِلائو تُم،
یقینا آ جائے گی مجھ میں سانیس لوٹ کے
بن کے عیسا مجھے گلے سے لگائو تُم،
نہال کرو کسی روز اپنے نام کے جیسے نہال
تھک چُکی ہوں میں رو رو کے اب نہ رُلائو تُم،
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






