شعر کہنے کو ایک خیال سَہانا مِلا
Poet: UA By: UA, Lahoreشعر کہنے کو ایک خیال سَہانا مِلا
اِسی بہانے دِل کو خوشی کا بہانہ مِلا
جو مجھے میرے جیسا دکھائی دینے والا
سوئے اتفاق پھر سے ایک دیوانہ ملا
دَور سے وہ اور تھا پاس آیا تو کوئی اور
دِکھنے میں نادان پرکھنے میں سیانہ مِلا
اینٹ پتھر کے مکانوں میں تو سب رہتے ہیں
لیکن اس مکین کو دل جیسا ایک ٹھکانہ ملا
ایک دِن کا ذکر ہے راستے میں یوں ہوا
دیکھا بھالا سا مجھے اک انجانہ ملا
دِل لگی کے کھیل میں یہی تو ہوتا آیا ہے
دِل کے بدلے میں دِل کو دِل کا نذرانہ مِلا
عظمٰی وفا کی راہ نمیں خود کو مٹانے کیلئے
پھَول بَلبَل کو مِلا، شمع کو پروانہ مِلا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






