شعلئہ فکر و احساس میں بدر جی آخر ہم تو آتشیں بزاں ہو گئے

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

شعلئہ فکر و احساس میں بدر جی آخر ہم تو آتشیں بزاں ہو گئے
ہاں مگر اپنے شعروں کے پیغمبراں ، آگ میں پھول کا امتحاں ہو گئے

دور تک ریت ہی ریت ہے زندگی، دور تک دھوپ ہی دھوپ ہے زندگی
اَل عطش اَل عطش کوثر علم و فن ، اب تو کانٹوں کی سوکھی زباں ہو گئے

میں تو گیتی کے سینے کی نم آگ تھا، ابر بن کے برستا بکھرتا رہا
میری شبنم نظر جن کے منہ دھو گئی، وہ ہی ذرے محوِ کہکشاں ہو گئے

جنسِ دل تو پہلے بھی کیا گراں مایا تھی اور اب اس ترقئی ماقوس میں
سنگ ریزوں کے تاجر میرے دور میں، آئینہ ساز و شیشہ گراں ہو گئے

کون ہے اور کیا ہے خبر کچھ نہیں، ہاں مگر نبضِ دوراں تیرے واسطے
ہم کبھی آتشِ گل کی نم بن گئے، ہم کبھی پتھروں کی زباں ہو گئے

Rate it:
Views: 514
23 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL