شعلئہ فکر و احساس میں بدر جی آخر ہم تو آتشیں بزاں ہو گئے
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIشعلئہ فکر و احساس میں بدر جی آخر ہم تو آتشیں بزاں ہو گئے
ہاں مگر اپنے شعروں کے پیغمبراں ، آگ میں پھول کا امتحاں ہو گئے
دور تک ریت ہی ریت ہے زندگی، دور تک دھوپ ہی دھوپ ہے زندگی
اَل عطش اَل عطش کوثر علم و فن ، اب تو کانٹوں کی سوکھی زباں ہو گئے
میں تو گیتی کے سینے کی نم آگ تھا، ابر بن کے برستا بکھرتا رہا
میری شبنم نظر جن کے منہ دھو گئی، وہ ہی ذرے محوِ کہکشاں ہو گئے
جنسِ دل تو پہلے بھی کیا گراں مایا تھی اور اب اس ترقئی ماقوس میں
سنگ ریزوں کے تاجر میرے دور میں، آئینہ ساز و شیشہ گراں ہو گئے
کون ہے اور کیا ہے خبر کچھ نہیں، ہاں مگر نبضِ دوراں تیرے واسطے
ہم کبھی آتشِ گل کی نم بن گئے، ہم کبھی پتھروں کی زباں ہو گئے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






