شفاف آنکھیں تیز ٹرک کی مُجھے لگا

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

شفاف آنکھیں تیز ٹرک کی مُجھے لگا
اک موت کا فرشتہ تھا ہنستا گزر گیا

وہ پھول تیرے ہونٹوں کے چھونے سے جو کھلا
وہ پھول اور جون کی آتش بھری ہوا

نیزوں نے مجھ کو جیسے زمیں سے اٹھا لیا
میں تیرے نرم سینے سے جس دم جدا ہوا

جیسے کہ سارے شہر کی بجلی چلی گئی
آنکھیں کھلی کھلی تھیں مگر سوجھتا نہ تھا

تصویر میری پردہ تخلیق بن گئی
چڑیا نے اس کی آ ڑ میں اک گھر بسا لیا

باتیں کہ جیسے پانی میں جلتے ہوئے دیئے
کمرے میں نرم نرم اجالا سا بھر گیا

سر درد جیسے نیند کے سینے میں سو گیا
ان پھولوں جیسے ہاتھوں نے ماتھا جوں ہی چھوا

اک لڑکی اک لڑکے کے کاندھے پہ سوئی تھی
میں اجلی دھندلی یادوں کے کہرے میں کھو گیا

سناٹے آئے درجوں میں جھانکا چلے گئے
گرمی کی چھٹیاں تھیں وہاں کوئی بھی نہ تھا

ٹہنی گلاب کی میرے سینے سے لگ گئی
جھٹکے کے ساتھ رکنا غضب ہوا

Rate it:
Views: 426
23 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL