شفاف آنکھیں تیز ٹرک کی مُجھے لگا
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIشفاف آنکھیں تیز ٹرک کی مُجھے لگا
اک موت کا فرشتہ تھا ہنستا گزر گیا
وہ پھول تیرے ہونٹوں کے چھونے سے جو کھلا
وہ پھول اور جون کی آتش بھری ہوا
نیزوں نے مجھ کو جیسے زمیں سے اٹھا لیا
میں تیرے نرم سینے سے جس دم جدا ہوا
جیسے کہ سارے شہر کی بجلی چلی گئی
آنکھیں کھلی کھلی تھیں مگر سوجھتا نہ تھا
تصویر میری پردہ تخلیق بن گئی
چڑیا نے اس کی آ ڑ میں اک گھر بسا لیا
باتیں کہ جیسے پانی میں جلتے ہوئے دیئے
کمرے میں نرم نرم اجالا سا بھر گیا
سر درد جیسے نیند کے سینے میں سو گیا
ان پھولوں جیسے ہاتھوں نے ماتھا جوں ہی چھوا
اک لڑکی اک لڑکے کے کاندھے پہ سوئی تھی
میں اجلی دھندلی یادوں کے کہرے میں کھو گیا
سناٹے آئے درجوں میں جھانکا چلے گئے
گرمی کی چھٹیاں تھیں وہاں کوئی بھی نہ تھا
ٹہنی گلاب کی میرے سینے سے لگ گئی
جھٹکے کے ساتھ رکنا غضب ہوا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






