شفق کو قید میں رکھا ہے آس تھی کتنی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابھلا کسی کی کبھی رنگ و باس تھی کتنی
شفق کو قید میں رکھا ہے آس تھی کتنی
رواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سو
دیار درد میں آمد کی پیاس تھی کتنی
نہ تم ملو گے نہ میں،ہم بھی دونوں لمحے ہیں
وہ لمحے جا کے جو واپس قیاس تھی کتنی
پتہ چلے جو محبت کا درد لے کے چلو
مرے مکاں کی گلی بھی اداس تھی کتنی
تمہاری رات پہ اتنا ہی تبصرہ ہے بہت
مکیں اندھیرے میں ہیں بد حواس تھی کتنی
گزر گیا جو زمانہ وہ یاد آتا ہے
محبتوں کے فسانہ میں پاس تھی کتنی
کھلے دریچے کے باہر ہے کون سا موسم
کہ آگ بھرنے لگی بے لباس تھی کتنی
خفا ہوئے بھی کسی سے تو کیا کیا وشمہ
بہت ہوا تو رہا دل شناس تھی کتنی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






