شوخ سی غزل
Poet: A.R Ajiz By: A-R Ajiz, Lahoreاِک شوخ سی سی غزل لکھوں کسی کے نام کروں
سوچتا ہوں وہ کون ہے جس کے نام کروں
کوئی تو ہو ایسا میں نے چاہا ہے جیسا
اپنی یہ ہستی اُس کے لئے بےنام کروں
ہم کہیں کسی کو اپنا کوئی کہے ہم کو اپنا
اُس کے پیار میں یہ زندگانی تمام کروں
میرا ہو کوئی ہمسفر میں بنوں کسی کا ہمسفر
عمر بھر کا ساتھ اُس کے نام کروں
میری ہو سوچوں میں وہ میرے ہو ہونٹوں پہ وہ
اُسی کا نام لیکر اپنی صبح و شام کروں
پھیلائے زُلف تو شام ڈھلے دکھائے رُخ تو دن چڑھے
دیکھ کے زُلف و رُخ اپنی صبح و شام کروں
میری ہر غزل کا وہی ہو مطلع وہی ہو مقطع
اپنی یہ شاعری اُس کے لئے تمام کروں
ہر گھڑی تُجھ سے یا خُدا پاکیزہ محبت کی مانگوں دُعا
بُر آئے عاجز کا مُدعا اسی پہ غزل اپنی تمام کروں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






