شوق جنوں
Poet: Syed Skhawat Ali Johar By: Bakhtiar Nasir, Lahoreبارش اگرچہ شور زیادہ مچائے گی
کانوں میں پھر بھی وہ مدھر آواز آئےگی
اے برق میرے گھر کو تو جب بھی جلائے گی
ہاتھوں میں میرے خون کی مہندی رچائے گی
یہ سب خیال و خواب کی باتیں ہیں آج بھی
مفلس کے گھر میں خوشیوں کی بارات آئے گی
شوق جنوں میں دیکھئے' ایسا بھی ہوگا حال
لکھ لکھ کےمیرا نام وہ خود ہی مٹائے گی
میں نے تو اس کے بارے میں سوچا نہ تا کبھی
وہ اپنے قول و فعل کو ایسا نبھائے گی
لاپروا میری ذات سے کب تک رہے گی وہ
ناراض گر کرے گی' تو خود ہی منائے گی
جو ہر وہ نازنین ہے فطرت میں باکمال
سنتے ہیں انگلیوں پہ وہ تجھ کو نچائے گی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






