شک کے دائرے میں آ کر مراسم ، مراسم نہ رہے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaشک کے دائرے میں آ کر مراسم ، مراسم نہ رہے
ہم بھی ہم نہ رہے اور تُم ، تُم نہ رہے
سفر عشق کا جاری ہے آج بھی جوش و خروش سے
مگر دونوں اکیلے ہیں ہم دم ہم قدم نہ رہے
چین تم نے چھین لیا قرار زمانے والوں نے
بہا دیئے ہم نے تمام آنکھوں میں نم نہ رہے
جن کی محفلوں کی شان تھے اب یہ دوڑ ہے
محفلیں اُن کی آباد رہیں ہم مہمانِ بزم نہ رہے
ہر شجر اب اُداس ہے ہر پھول سوگوار ہے
تُم نہ رہے ہم نہ رہے رنگینیاں موسم نہ رہے
میں وہ غریب شخص ہوں لُٹ گئی کمائی جسکی
بڑے دوست ، بڑے یار ،بڑے ہم دم نہ رہے
ہم آرزو کی گود میں سو جاتا تھا خواب اُرڑھ کے
نہال آرزو مر گئی جب میرے وہ صنم نہ رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






