شکاری اب نیا اسلوب صید ایجاد کرتے ہیں
Poet: نوشین فاطمہ By: nosheen fatima abdulhaqq, Multanوفا کی جاں بلب رسموں پہ استبداد کرتے ہیں
پرانی نبھ نہیں پاتیں نئی ایجاد کرتے ہیں
عمارت پھر اٹھائی جائےگی پختہ تعلق کی
چلو پہلے ہم اچھے خلق کو بنیاد کرتے ہیں
یہ میرے فن کی عظمت ہے کہ میں خاموش رہتی ہوں
جدل باہم مرے مداح اور نقاد کرتے ہیں
نظر رکھتے ہیں چڑیا پر پکڑتے فاختہ کو ہیں
شکاری اب نیا اسلوب صید ایجاد کرتے ہیں
سخن میں کرتے ہیں ساقی کا بھی اور شیخ کا بھی ذکر
ہم اچھے لوگ ہیں نوشی ! ہر اک کو شاد کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






