شکستگی................. پھر سے
Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahoreیقین مانو میں خود کو بدل رھی ھوں پھر سے
بال بناتی ھوں سویرے سویرے
خاب سجاتی ھوں راتوں کو پھر سے
موتی پلکوں پہ سجائے ھیں پھر سے
لپیٹا ھے آنچل میں خود کو پھر سے
دامن میں گلوں کو جگہ دے دی ھے پھر سے
قہقہہے لگانے لگی ھوں
بات بات پہ بے بات پھر سے
لہجے میں حلاوت کی ملاوٹ رکھنے لگی ھوں
پھر سے
آنکھوں میں چمک
شخصیت میں مھک رکھتی ھوں پھر سے
پھر سے پھر ھونے لگی ھون پھر بھی پھر سے
میرے دل کے در مقفل میں
خاموشی چلاتی ھے
ایڑیاں رگڑتی مجبوری مجھے ستاتی ھے
میرے آنکھوں میں سجے سپنے ادھورے سبھی
میرے دل کے ارمان شکستہ سے
مجھے میرے نئے خابوں سے ڈراتے ھیں
یقن مانو میں خود کو بدل تو رھی ھوں
مگر
میرے اندر میرے دل کے نہاں خانوں میں
پھر سے
پھر بھی بدلتا ھی نہیں
یقن مانو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






