شکوا ءِ یار
Poet: SYED ZULFIQAR HAIDER By: SYED ZULFIQAR HAIDER, Nizwa, Omanجان بوجھ کر دل تڑپاتا کیوں ہے شدتِ پیاس بڑھاتا کیوں ہے
چاہتا ہے تو دور جاتا کیوں ہے آتشِ انتظار میں سُلگاتا کیوں ہے
آنکھوں میں سُرخی دیتا کیوں ہے جُنبشِ زبان روکتا کیوں ہے
غیروں سے ہنس کر بولتا کیوں ہے دل میں آگ بڑھکاتا کیوں ہے
شمع کی طرح جلاتا کیوں ہے کانٹوں کی سیج بیچھاتا کیوں ہے
آنکھوں سے آنکھیں چراتا کیوں ہے جُرمِ مہبت میں ستاتا کیوں ہے
آرزوۓ مہبت بڑھاتا کیوں ہے دیکھ کر مجھے شرماتا کیوں ہے
اجنبی کی طرح گزر جاتا کیوں ہے ساتھ ہمارا ہے تو بے رُخی دیکھاتا کیوں ہے
جینے کی خواہش رکھتا کیوں ہے مرنے کی پرواہ کرتا کیوں ہے
روٹھتا ہوں تو مناتا کیوں ہے تصویر میری سینے سے لگاتا کیوں ہے
پیار ہے تو اشک بہاتا کیوں ہے اقرارِ مہبت چھپاتا کیوں ہے
ذوالفقار! اگر وہ تمہیں چاہتا ہے توملنے سے پھر کتراتا کیوں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






