شکوہ نہ کریو تم
Poet: سید hammad razaنقوی By: syed hammad raza naqvi, Faisalabadمری خاموش آنکھوں سے شکوہ نہ کیجئے
اک ذرا چھیڑئے پھر چھیڑنے کا مزہ لیجئے
حسن کو عشق سے یہ امتیاز کیسا
اک زاوئے کے دو رنگ دونو ملا دیجئے
مشکل سے ہے اترا دل پہ حجاز تیرا رضا
چہرے سے اس زلف بد نصیب کو ہٹا دیجئے
رنجش کو لئے دل مےگام گام نہ پھریئے
منت مے کر رہا ہوں رنجش مٹا دیجئے
مری آرزوں کا اتنا تو بھرم رکیئے
مشکل مے پھنس گیا ہو ہاتھ بٹا دیجئے
نشتر یہ جدائی کے خیرات مانگتے ہیں
چاہت کی خواب گاہ مے غم دنیا لٹا دیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






