شکوہ نہیں ہے کوئی، شکایت نہیں کوئی

Poet: Shams Bhopali By: Azhar Sabri, New Delhi

شکوہ نہیں ہے کوئی، شکایت نہیں کوئی
باقی جو اس کے دل میں محبت نہیں کوئی

جنت کی اس کے حق میں بشارت نہیں کوئی
آنکھوں میں جس کی اسکِ ندامت نہیں کوئی

ہم کو ہے یار تم سے عداوت نہیں کوئی
جب تک کروگے ہم سے بغاوت نہیں کوئی

اے یار کیوں مکرتے ہو یوں بات بات پر
یہ عشق ہے حضور! تجارت نہیں کوئی

واعظ ہمیں ڈراتا ہے کیوں روزِ حشر سے؟
اس عشق سے بڑی تو قیامت نہیں کوئی

بس اک ہی دعا ہے، میسر ہو اس کی دید
دل میں ہمارے دوسری حسرت نہیں کوئی

ہر شخص کیوں یہ پوچھتا ہے شمسؔ کا پتہ
اب تک ملی ہے اس کو تو شوہرت نہیں کوئی

Rate it:
Views: 963
11 Nov, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL