شکوہ کبھی زبان پہ لایا نہ جائے گا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاشکوہ کبھی زبان پہ لایا نہ جائے گا
وہ بات یونہی اپنی سنایا نہ جائے گا
خوشیوں کی اک جھلک ہی دکھانے سے پیشتر
مجھ کو مرے نصیب رلایا نہ جائے گا
خلقِ خدا کو سینے سے اک بار تو لگا
اخلاص سے ہی بخت جگایا نہ جائے گا
پتھر نہیں یہ پیار کا گوہر ہے ہاتھ میں
ہونٹوں سے جس کو وہ بھی لگایا نہ جائے گا
ماتم کدہ ہیں اپنی انا کے غرور میں
سورج کو جو چراغ دکھایا نہ جائے گا
اشکوں سے تر وفا ؤں کی خالی زمین پر
آنکھوں میں خواب وشمہ جی آیا نہ جائے گ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






