شھر دے لوگ
Poet: نعمان صدیقی By: Noman Baqi Siddiqi, Karachiکج شھر دے لوگ وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی
کی زمین پر
کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے
کچھ شوق ہمیں تھا مرنے کا
کچھ تھپکی تھی کسی کی ذرا
کچھ شوق ہمیں تھا دھرنے کا
کچھ وہ کندھوں پہ اُٹھاتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا اُبھرنے کا
کچھ حکومت بھی متصادم تھی
کچھ شوق ہمیں تھا لڑنے کا
کچھ انا بھی اُن کی آڑے تھی
کچھ شوق ہمیں تھا آڑنے کا
کچھ شیخ تھے جو اُکساتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا بِھڑنے کا
کچھ سیاسی کزن کان بھرتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا بھرنے کا
کچھ ووٹ بھی ہم کو گراتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا گِرنے کا
کچھ عشق پہ حُسن اُکساتا تھا
کچھ شوق ہمیں تھا کرنے کا
کچھ شاعری نعمان پہ آمد تھی
کچھ شوق ہمیں تھا کرنے کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






