شہدائے تعلیم

Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammad Siddique Prihar, Layyah

یادرہے گی ہمیں قربانی تمہاری
ہرزبان پرہے کہانی تمہاری

چھلک پڑتے ہیں پتھردل بھی
دیکھ کرابھی تک نشانی تمہاری

وابستہ تھیں جنہیں تم سے امیدیں
دیکھی نہیں والدین نے جوانی تمہاری

چھین لیے رہزنوں نے خواب تمہارے
بری لگتی ہے انہیں علم خوانی تمہاری

نہ تھا گمان میں بھی کسی کے
ہوجائے گی یوں نقل مکانی تمہاری

بن رہے ہیں حالات کچھ ایسے
رہے گی سکولوں پرحکمرانی تمہاری

ہواہے جب سے تم پرحملہ
سوگ میں ہے ہرپاکستانی تمہاری

رہے گی روشن علم کی شمع
شامل ہے اس میں سامانی تمہاری

تازہ ہوئی یادشہدائے تعلیم کی
سن کرصدیقؔ نظم زبانی تمہاری

Rate it:
Views: 401
25 Jan, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL