شہر دل کی گلیوں میں
Poet: عرشیہ ہاشمی By: arshiya hashmi, islamabadشہر دل کی گلیوں میں آج ہو کا عالم ہے
سسکیاں ابھرتی ہیں
ان دنوں کی یادوں میں۔ ۔ ۔
جب خوشی کے جھولے میں
اعتبار کا رشتہ،،،،،،ایک پیار کا رشتہ
چاندنی کی راتوں میں۔ ۔ ۔
بلبلوں کے گیتوں کا،،،
دور کے اک جھرنے سے
اس نگر میں شاداں تھا۔ ۔ ۔
ایک ایک گلی میں گیت
اعتبار کا گایا،،،اور پیار کا گایا
ہر طرف اجالا تھا،،روشنی تھی،،،خوشبو تھی
سات رنگ کی تتلی۔ ۔ ۔ ۔
ننھے ننھےپھولوں سے۔ ۔ ۔ ہمکلام ہوتی تھی
ایک قہر آیا پھر،،،،،اعتبار بھی ٹوٹا
جھوٹ کا پرندہ پھر۔ ۔ ۔ ۔
شہر کی فصیلوں پر،،،،روز آیا کرتا تھا
دوستی کا وہ رشتہ۔ ۔ ۔
خوشبوؤں میں بستا تھا
ٹوٹ ہی گیا آخر۔ ۔ ۔
ہاتھ اس کے ہاتھوں سے،،،،چھوٹہی گیا آخر
شھر دل کی گلیاں پھر۔ ۔
راز کھولا کرتی تھیں۔ ۔ ۔
ہر سو چرچا کرتی تھیں۔ ۔ ۔
اور۔ ۔
قتل کا قصہ۔ ۔
قاتلوں کے لہجے نے،،،،شہر کو سنایا تھا
ان دنون سے روٹھی ہے،،روشنی بھی،،خوشبو بھی
اب تو نالہ بلبل بھی خفا سا لگتا ہے۔ ۔
مان ٹوٹ جانے کے۔ ۔ ۔
دل کو بھی جلانے کیے۔ ۔
اور دھوکا کھانے کے۔ ۔ ۔
سیاہ گھنے اندھیرے سے بادلوں کا سایہ ہے
بس وہی تو جیون تھا۔ ۔ ۔
اس کے بعد بستی میں موت کا اندھیرا ہے
شھر دل کی گلیون میں موت کا سناٹا ہے۔
بین کرتی یادوں کی
سسکیاں ابھرتی ہیں۔ ۔ ۔
شھر دل کی گلیوں مین۔ ۔ ۔
شھر دل کی گلیوں میں۔ ۔ ۔
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







