شہرِ قائد کے باسیوں سے اپیل
Poet: Muhammad Shafiq Ahmed Khan By: Muhammad Shafiq Ahmed Khan, KOT ADDUاے شہرِقائدتجھے ہوا کیا ہے، تیرے اس درد کی دوا کیاہے
کیوں گرتی ہیں روز لاشیں، ہے کیوں اداس یہ شہر، وجہ کیا ہے
رہتے تھے کل تلک جوایک دوجے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر
یوں اچانک ہوئے کیوں پیاسے خونِ ناحق کے ،آخر وجہ کیا ہے
رستے بستے گھر اجاڑکر، بچے یتیم کراکر، بیوگیاں بڑھانے والوں
کیوں ہوئے آخرکو خون سفید تمہارے ، کچھ تو بتا ﺅ، وجہ کیا ہے ٓٓکر وجہ کیا ہے
کر کے شہید کڑیل گبھرو جوا ن، ہنستی ماﺅں، بہنوں کو رلانے والو
اے پتھر دل انسا ن نما شیطانو ، قتل کرنے کی بتاﺅ تو آخر و جہ کیا ہے
اللہ کی مخلوق کو زخمی اور اپاہج کر کے دنیا کا محتاج کرنے والو
کچھ تو بتلاﺅ، کچھ تو بتلاﺅ، تمہارے اس غصے کی آخر وجہ کیا ہے
انسانیت کے محافظ ، امن و محبت کے پرچار کو بھیجے جانے والو
لواحقین کے دلوں کو چھلنی کرکر کے رلانے والو آخرکو وجہ کیا ہے
نیکی چھوڑ بدی پر چل کراپنے سے مسلمان کو مار نے والو
اِک مسلمان ہوتے بھی کرختگیئِ دل کی آخر کو وجہ کیا ہے
کیوںبنتے ہو آلہ کار مکارو عیار سیاستدانوں اور وطن دشمنوں کے
انکے کرتوت تو سبھی جانتے ہیں، آپکے نہ سمجھنے کی آخر وجہ کیا ہے
ہو جاﺅ پھر سے شیر و شکر ہاتھوں میں یونہی ہاتھ ڈالکر
بھڑ جاﺅ دشمن سے ، وہ سوچتا ہی رہ جائے کہ وجہ کیا ہے
ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر تھا م لو یہ سبز ہلالی پرچم اے ا ہلِ شہر
ڈنڈے سے اسکے لو کام تلوار کا، ہو دشمن بھی حیران کہ وجہ کیا ہے
بھول کر ذات پات ، فرقہ پرستی ، مذہب اور قومیتیں اپنی
بن جاﺅ تم پکے مسلماں و پاکستانی ، نہ ہو مددِ خدا تو وجہ کیا ہے
ہوئے ہیں بدنا م ہم بہت زمانے میں اس قتل و غارتگری سے
کرو اب اتحاد پید ا ایسا کہ دنیا ہو حیراں اور دے مثال، وجہ کیا ہے
آخر میں بس ہے اتنی سی گذار ش،بنتی، عرض اور ریکوسٹ اے شفیق
بن جائیں سب و طن دشمن کے ایسے دشمن، وہ نہ سمجھ سکے کہ وجہ کیا ہے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا







