صبح سویرےجب وہ شربتءدیداردیتےہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamصبح سویرے جب وہ شربت ءدیدار دیتےہیں
اپنے خلوص سے ہمیں وہ مار دیتے ہیں
پہلےخود ہی چڑھاتےہیں چنےکےجھآڑ پہ
پھر نیچےسے سیڑی کو ٹھوکرماردیتےہیں
ہمیں ہرروز سبز باغ دکھاتے ہیں لیکن
کسی کو گلشن کسی کوگلزاردیتےہیں
کہا محبوب کی ایک جھلک کی خاطر
اس کےگھرکےسامنےعمرگزاردیتےہیں
وہ کہنے لگے دیوانےکاسرقلم کرکے
اس سےعشق کابھوت اتاردیتےہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






