صبر
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiاکثر یہ صبر کہتا ہے دھیرے سے کان میں
عجلت سے کب ملے گی مسرت جہان میں
ہر وقت زہر ہی کیوں اگلتے ہو تم یہاں
کچھ تو مٹھاس لاؤ تم اپنی زبان میں
چھوڑا ہمیں جو تم نے یوں بے آسرا یہاں
رکھے خدا تمہیں بھی اب اپنی امان میں
ایسا نہیں کہ اب نہ کبھی مل سکیں یہاں
رکھتے ہوں کیوں ہمیشہ برا ہی گمان میں
ہم نے کیا ہی کیا ہے برا ساتھ آپ کے
الزام کیوں یہ دھرتے ہو دنیا جہان میں
کیسا پڑا ہے قحط محبت کا شہر میں
مرجھا رہے ہیں پھول بھی اب تو دکان میں
آتا نہیں ہے چین مجھے اب کیوں یہاں
کیا ایک ہی وہ شخص تھا سارے جہان میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






