صحافی
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leedsچلو صحافی برادری پر ظلم ڈھا کے دیکھتے ھیں
چلو سیاستدانوں کو آڑے وقتوں میں آزما کے دیکھتے ھیں
صحافت کے درخشاں ستارے جو تاریک راہوں میں مارےگئے
چلو آج ان پر عقیدت کے پھول برسا کے دیکھتے ھیں
زندگی کے صبر آزما اور جانگسل سفر کے لیے
چلو تمہاری جدوجہد کو اپنا کر دیکھتے ھیں
حرف و بیاں کی صداقت کو جانچنے کے لیے
درد خلق کو محسوس کر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے بلآخر انصاف کا بول بالا ھوتا ھے
چلو عدالت پر بھروسہ کر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے حقیقتوں کے امین تم ھو رازوں کے رازداں تم ھو
چلو تم پر غداری کے الزام لگا کے دیکھتے ھیں
سنا ھے حق پر چلنے سے انسان بے خوف ھو جاتا ھے
چلو حق و سچ کو دنیا میں پھیلا کے دیکھتے ھیں
سنا ھے رنج و الم کی وجہ ارمان ھیں
چلو خواھشات کو مٹا کے دیکھتے ھیں
سنا ھے وہ بڑا محب وطن ھے
چلو ھم بھی قومی ترانہ گا کے دیکھتے ھیں
سنا ھے وطن سے وفا کاایک ھی طریقہ ھے
چلو ھم بھی قومی پرچم لھرا کے دیکھتے ھیں
سا ھے سچ کی سزا گولی ھے
چلو زرا گولی کھا کے دیکھتے ھیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






