صحراِ دل کی ویرانیوں میں کبھی شامل تھا تُو
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinصحراِ دل کی ویرانیوں میں کبھی شامل تھا تُو
میری ساری عمر میں ایک تبسُم پل تھا تُو
تم نے ہی تو چلائے نازِ آشفتہ کو سہی راستے
بساطِ بے خودی میں جیسے میری عقل تھا تُو
خوفِ عروج و تنزل بھلا کیا اس کو
جس خاکی بدن کا ابد و ازل تھا تُو
تبسم طبیعت، وہی نازکی، وہ ضدی مزاج
کہتے ہیں مجھ سا ہی بلکل تھا توُ
تجھے دیکھا تھا دارِ ساعت میں ہر دفعہ
یہ کس شہنِ حسن کا ہم شکل تھا توُ
تُو منفرد تھا مختصر بھی مکمل بھی تھا
احسن جیسے آدھی پڑھی ہوی غزل تھا توُ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






