صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے
Poet: purki By: M.Hassan, Karachiاتنا شورغوغا کرو چاروں طرف
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے
حکمراں مکمل بہرے ہوچکے ہیں
مظلوموں کی آہیں بھی انہیں سنائی نہ دے
ہرطرف بیگناہوں کا خون بہہ رہا ہے
افسوس بہتا خون بھی انہیں دکھائی نہ دے
حکومت کی بے بسی کا یہ عالم ہے پُرکی
کوئی حل ان کو ابھی تک سُجھائی نہ دے
چند غُنڈوں کو سرعام پھانسی پہ چڑھا دو
پھر دیکھ معاشرہ سدھرتا دکھائی نہ دے
وَلَکُم فی لقصاصِ حَیاتِ یّااُولی اَلباب
اللہ کا یہ فرمان کسی کوسنائی نہ دے
ان چیخوں کا فوراّ علاج کرو بھائی شریفو
یہ مڑجائے توتیری حکومت کہیں دکھائی نہ دے
عمران بھی پہلے کی طرح پُرجوش نہیں رہا
عوام کو بہت امیدیں تھی مگر کچھ کرتا دکھائی نہ دے
ابھی تو سب پھنسے ہوئے ہیں امریکی ڈروں میں
مہنگائی کے ڈروں سے عوام کو بچاتا دکھائی نہ دے
کوشش کرو کہ جلد سے جلد اس عزاب سے نکلے
اندھے ہو کیا؟ تجھے سلگتے عوام کا انتقام دکھائی نہ دے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






