صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

Poet: purki By: M.Hassan, Karachi

اتنا شورغوغا کرو چاروں طرف
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

حکمراں مکمل بہرے ہوچکے ہیں
مظلوموں کی آہیں بھی انہیں سنائی نہ دے

ہرطرف بیگناہوں کا خون بہہ رہا ہے
افسوس بہتا خون بھی انہیں دکھائی نہ دے

حکومت کی بے بسی کا یہ عالم ہے پُرکی
کوئی حل ان کو ابھی تک سُجھائی نہ دے

چند غُنڈوں کو سرعام پھانسی پہ چڑھا دو
پھر دیکھ معاشرہ سدھرتا دکھائی نہ دے

وَلَکُم فی لقصاصِ حَیاتِ یّااُولی اَلباب
اللہ کا یہ فرمان کسی کوسنائی نہ دے

ان چیخوں کا فوراّ علاج کرو بھائی شریفو
یہ مڑجائے توتیری حکومت کہیں دکھائی نہ دے

عمران بھی پہلے کی طرح پُرجوش نہیں رہا
عوام کو بہت امیدیں تھی مگر کچھ کرتا دکھائی نہ دے

ابھی تو سب پھنسے ہوئے ہیں امریکی ڈروں میں
مہنگائی کے ڈروں سے عوام کو بچاتا دکھائی نہ دے

کوشش کرو کہ جلد سے جلد اس عزاب سے نکلے
اندھے ہو کیا؟ تجھے سلگتے عوام کا انتقام دکھائی نہ دے

Rate it:
Views: 399
23 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL