صدا ٹوٹے ہوئے دل کی سنا کوئی نہیں کرتا
Poet: آصف علی By: Asif, karachiحقیقت بات کہنے سے رکا کوئی نہیں کرتا
کہ جھوٹی بات پہ آخر ڈٹا کوئی نہیں کرتا
تیرا فقیر ہوں مولا تجھی سے ہیں یہ امیدیں
;سوا تیرے یہاں مولا عطا کوئی نہیں کرتا
ہے یہ قربانئ سبط نبی ص کا معجزہ لوگوں
وگرنہ ذکر یارب جا بجا کوئی نہیں کرتا
وہ میری لعش پہ آئے تو بولے مسکرا کر یہ
کسی کے مرنے سے تو اب مرا کوئی نہیں کرت
میری دولت کے جاتے ہی زرا سا ساتھ دینے کو
میرے حالات کا مجھ سے پتا کوئی نہیں کرتا
فقط مسجد میں جانے پر ہیں فرقہ بازیاں ساری
مگر دنیا کے کاموں میں جدا کوئی نہیں کرتا
ہمی نے خود کو بانٹا ہے الگ تنہا مزاہب میں
فرق تجھ میں و مجھ میں پر خدا کوئی نہیں کرتا
اسے لالچ کوئی ہوگی جو تیرے پیچھے آتا ہے
کہ اب کے دور میں ایسے رلا کوئی نہیں کرتا
زمانہ ساتھ ہے جس کے تو میں بھی ساتھ ہوں اسکے
زمانے بھر سے اب بھائی لڑا کوئی نہیں کرتا
تم اپنے معاملوں میں باپ سے بھی رائے تو لےلو
کہ بچوں کا کبھی اپنے برا کوئی نہیں کرتا
شب_فرقت ملی مجھکو یہی تو بس غنیمت ہے
مجھے ورنہ جہاں میں اب ملا کوئی نہیں کرتا۔
یہ درد دل کی باتیں کیوں سناتا ہے یہاں آصف
صدا ٹوٹے ہوئے دل کی سنا کوئی نہیں کرتا
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






