صرف چہرے سے عیاں ہوتے نہیں دل کے راز
Poet: Shahzad anwar akolvi By: Shahzad Anwar khan, Akolaدیکھ کر ہم کو جو شاداب ہوا کرتے ہیں
صرف وہ اپنے ہی احباب ہوا کرتے ہیں
اے گھٹا،بادِ صبا، شوخ ہوا چنچل سی
باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیں
جو نظر آتے ہیں خاموش طبیعت ہم کو
ان کے اندر کئی سیلاب ہوا کرتے ہیں
صرف چہرے سے عیاں ہوتے نہیں دل کے راز
اک رسالے میں کئی باب ہوا کرتے ہیں
یہ جو ہر بات پہ میں میں یہ تکبّر یہ غرور
صرف بر بادی کے اسباب ہوا کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






