صنم تم یاد آتے ہو
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreکبھی پُھولوں کے موسم میں
کبھی بارش کی رم جھم میں
صنم تم یاد آتے ہو
کبھی پت جھڑ کی شاموں میں
کبھی برفیلی راتوں میں
صنم تم یاد آتے ہو
بہت ہی یاد آتے ہو
ادُھوری سی باتوں میں
پُورے چاند کی راتوں میں
کسی چکور کی مانند
محبت پانے کی خواہش میں
صنم تم یاد آتے ہو
بہت ہی یاد آتے ہو
کبھی تنہائی کے لمحوں میں
کبھی محفل و میلوں میں
صنم تم یاد آتے ہو
بہت ہی یاد آتے ہو
شکستہ سے لہجوں میں
ماضی کے دریچوں میں
کسی بھنورے کی مانند
گُل بہار کی خواہش میں
صنم تم یاد آتے ہو
بہت ہی یاد آتے ہو
ہاں بہت ہی یاد آتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






