صنم کوغیر کا وہ آسرا نہ راس آئے
Poet: Taj Rasul Tahir By: TAJ RASUL TAHIR, Islamabad خدا کرے کہ وہ آب و ہوا نہ راس آئے
صنم کو غیر کا وہ آسرا نہ راس آئے
ہمارا کیا ہمیں جینا ہے اور جی لیں گے
ستم ظریف کو مہرو وفا نہ راس آئے
ذرا سا چین ہمارے نصیب میں نہ رہا
اسے قرار کا وہ واسطہ نہ راس آئے
ہمیں جلا کے وہ خود آپ اپنی آگ جلے
اسے فرار کا وہ راسطہ نہ راس آئے
ستم کہ شہر خموشاں بنا دیا دل کو
اسے وہ رونق شہر جدا نہ راس آئے
ہزار بار بہاروں کا گزر ہو لیکن
اسے چمن کی وہ باد صبا نہ راس آئے
خدا کرے کہ وہ آ جائے لوٹ کے طاہر
دیارِ غیر کی اسکو فضا نہ راس آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






