ضرورت ہے تمہاری بصمئم قلب لمن لایمکن حیاة بعيره.

Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد

سسکتے ہوۓ لمحوں کو ضرورت ہے تمہاری
منتظر نگاہوں کو ضرورت ہے تمہاری.

بے چین کسی ساگر کے کناروں کی طرح
میرے گرتے ہوۓ اشکوں کو ضرورت ہے تمہاری.

اداس ہے تم بن منزل کا سفر بھی
ویران سبھی رستوں کو ضرورت ہے تمہاری.

اے چشم ء تر ذرا ادھر بھی اتر
بڑھتی ہوئی خطاؤں کو ضرورت ہے تمہاری.

یہ بارش یادیں اور خنک ہوائیں
موسم کی اداؤں کو ضرورت ہے تمہاری.

تم لازم ہو میرے لئے اب سمجھو
ٹوٹتی سانسوں کو ضرورت ہے تمہاری.

ایک مدت سے بے خواب ہیں آنکھیں
آؤ کہ خوابوں کو ضرورت ہے تمہاری.

ابھی سے جینا کیوں محال ہے عنبر
ابھی تو وفاؤں کو ضرورت ہے تمہاری.
 

Rate it:
Views: 540
17 Mar, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL