ضروری تو نہیں
Poet: Atif Rashid By: Atif Rashid, Islamabadہم جس سے محبت کریں
وہ بھی کرے ہم سے پیار ضروری تو نہیں
ہم جس پر مریں
وہ بھی کرے ہم پہ جان نثار ضروری تو نہیں
ہم جس کے سنگ جینے مرنے کی کھائیں قسمیں
وہ بھی کرے ہمارے ساتھ عہد و قرار ضروری تو نہیں
ہم جس کے لئے چھوڑ دیں دنیا موت کو لگا کے گلے
وہ بھی چھوڑ دے ہمارے لیے سنسار ضروری تو نہیں
ہم جس سے کریں اپنی محبت کا اظہار ہو کر رو برو
وہ بھی کرے ہم سے محبت کا اظہار ضروری تو نہیں
دیکھ کر ان کو رہتا نہیں دل اب تو قابو میں ہمارے
ہمیں دیکھ کر بجیں ان بھی دل کے تار ضروری تو نہیں
وہ جھوٹ بھی بولیں تو ہم کریں یقین ان کا
ہم سچ بھی بولیں اور کریں وہ اعتبار ضروری تو نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







