طریقے بدل بدل کے وه آزماتا رها مجھے

Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستان

طریقے بدل بدل کے وہ آزماتا رہا مجھے
بچھڑ کے بھی عمر بھر یاد آتا رہا مجھے

رنجش تھی یا خلش، شاید کہ ہو یہ عادت
تعمیر کر کے میری وہ مٹاتا رہا مجھے

طالب تھا قربتوں کا مگر معاملہ عجیب تھا
قربتیں بڑھا کے گنواتا رہا مجھے

ہمارے بغیر وہ بھی نہ چین پا سکا
تھا اناء پرست، اناء دکھاتا رہا مجھے

تلخی ء حالات بھی کچھ کم نہ تھے مگر
اور وقت بھی مسلسل تھکاتا رہا مجھے

بکھرا بہت تھا وہ ٹوٹا سا تھا کہ
قصے مسافتوں کے سناتا رہا مجھے

ہم بھی اشک تھے گویا اس کی چشم که
سما نہ سکا تو گراتا رہا مجھے

ادھوری محبتوں کے عنبر بھرم کی طرح
میں اسے اور وہ نبھاتا رہا مجھے

Rate it:
Views: 566
09 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL