طلوع آفتاب تک

Poet: UA By: UA, Lahore

ستاروں سے نظاروں سے تیری ہر بات کہتے ہیں
سنا کرتے ہیں چھپ چھپ کر جو اپنی بات کہتے ہیں

کسے سنائیں دل کی داستاں کس سے کریں باتیں
ستاروں سے ہی اس ماہتاب کی ہر بات کہتے ہیں

شب ماہتاب سے لیکر طلوع آفتاب تک
بہت بےچین رہتے ہیں بہت بےتاب رہتے ہیں

شب ہجراں میں اک پل کے لئے ہم سو نہیں پاتے
تیری یادوں میں جاگیں بھی تو محو خواب رہتے ہیں

یہ پردہ داریاں تو محض دنیا کا دکھاوا ہے
تیری جناب میں تو سارے بےنقاب رہتے ہیں

تیری جفاؤں میں بھی خوشبوئے وفا آتی ہے
اسے لئے تیرے ہنس کر عتاب سہتے ہیں

ساحل کی تمنا میں سمندر میں ڈوب کر
لہروں کے سنگ سنگ پے حساب بہتے ہیں

اشکوں سے رنج و غم سے بھری زندگی تمام
اسی لئے لوگ زندگی کو غم کی کتاب کہتے ہیں

Rate it:
Views: 1808
02 Feb, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL