ظلم دی یار آخیر کر گئے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaظلم دی یار آخیر کر گئے
جان نالوں وکھ شریر کر گئے
تے صاحبہ وانگوں چل کے چال سجن
مرے ٹکڑے ٹکڑے تیر کر گئے
مرے کھد کے رنگ ارماناں چوں
ارماناں دی بے رنگ تصویر کر گئے
جینا کر گئے مرا انجھ ہوکھا
مرے ساواں نوں مرے لئی شمشیر کر گئے
ساری عمر جیہڑا نہیں بھرنا
دل تے ایسا مرے چیڑ کر گئے
لُون دی لا کے مرہم مرے زخماں تے
حال اور بُرا مرے دلگیر کر گئے
کیہ جادو کر گئے نے لیکھاں اُتے نہال
مرے خلاف مری تقدیر کر گئے
ظلم دی یار آخیر کر گئے
جان نالوں وکھ شریر کر گئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






