عاشق کی فریاد

Poet: رعنا تبسم پاشا By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA

بجھ گئے امیدوں کے دیپ اور چراغ
زندگی سکھ کا دے کوئی مجھ کو سراغ

حرماں نصیبی کا لگا ہے دامن پہ داغ
آج کا دن روز محشر سے بڑھ کر سہی

دلِ نامراد پہ ٹوٹی ہے پھر قیامت وہی
آئی ہے تیری یاد ہؤا ہے غضب یہی

کوئی دیکھے کہ آئے ہیں طوفاں کیا کیا
کھو گئے نشیمن لٹ گئے آشیاں کیا کیا

عیاں زخم زخم ہیں نہاں کیا کیا
وقت بُرا سہی آخر کو ٹل جائے گا

اپنا بھی اندازِ زندگی بدل جائے گا
سکوں ملے گا قرار بھی مل جائے گا

تیری یادیں تو میرا ساتھ نہ چھوڑیں گی
جوڑیں گی مجھ کو اور پھر توڑیں گی

میری زیست کے رخ کیا کیا موڑیں گی
مایہ پا کر غریب محبت کو ٹھکرانے والی

دل سے نکلی نہیں دولت کو اپنانے والی
کیسے بھولوں تجھ کو او ہردم یاد آنے والی؟

Rate it:
Views: 1136
08 Aug, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL