عاشق ھوں میں
Poet: aman waseem arbi By: wasim rb, multanعاشق ھوں میں مجھے عاشقی کا بس بہانہ چاہیے
بے گھر ھوا ھوں تیرے دل میں اک ٹھکانہ چاہیے
زندگی میری سنور جائے گی دیکھو اس طرح
مجھ کو تیرے سنگ اک لمحہ سہانا چاہیے
تیرا میرا رشتہ چند لمحوں میں ایسا بن گیا
یہ تعلق توڑنے کو اک زمانہ چاہیے
میرے عشق نے تیرے حسن کو دگنا چگنا کر دیا
چاند کو بھی تجھ سے اپنا منہ چھپانا چاہیے
تو جو میرے ساتھ ھے میری شب دیجور میں
میرے ھر اک زخم کو بھی مسکرانا چاھیے
دل میں طوفاں آنکھ میں سیلاب ھو
ایسی تنہائی سے بہتر مر ہی جانا چاھیے
قاتل میرا دلدار ھو کچھ ایسا چاھتا ھوں وسیم
اس کے ھاتھوں سے مجھے اب زھر کھانا چاھیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







