عاشق ہوں میں تمہارا-گیت
Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتانعاشق ہوں میں تمہارا کر لو مجھے گوارا
بن ٹھن کے جا رہی ہو کس موج میں او رانی
مجھ پہ بھی آج کر دو تھوڑی سی مہربانی
نظر کرم ہی کر دو دیکھو ادھر خدارا
تم خوشبوئے چمن ہو تم رنگ انجمن ہو
تم گوہر نایاب تم ہی بہار بن ہو
تم ہو گلاب و عنبر تم ہو گگن کا تارا
تم حسن میں محبت اک تم ہو میری چاہت
تم میرے دل کا چینا تم آنکھوں کی ہو راحت
میں ہوں اگر سمندر تم ہو میرا کنارا
پوچھو نہ حال میرا تنہائیوں نے گھیرا
غم کا لگا ہے میلا دکھ درد کا ہے ڈیرا
میرا جگر چھلنی چھلنی میرا دل ہے پارا پارا
جب باغ میں تم آئے بادل امڈ کے چھائے
گانے لگی ہوا بھی اور پھول مسکرائے
میں نے بھی آج دیکھا کیا خوب تھا نظارہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






