عام سے شاعر ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreہم تو ایک عام سے شاعر ہیں
اور عام سی شاعری کرتے ہیں
دنیا داروں کے طبقے سے
ہم کو تو کوئی راہ نہیں
دنیا کے ساز و ساماں کی
ہم کو تو کوئی چاہ نہیں
ہم اپنے دل میں رہتے ہیں
اور دل کی باتیں کرتے ہیں
ہم تو عام سے شاعر ہیں
اور عام سی شاعری کرتے ہیں
دنیا میں کیا کیا ہوتا ہے
کب کیسے اور کیوں ہوتا ہے
ایسی باتیں ہم کیا جانیں
ہم سیدھے سادے بندے ہیں
اور سیدھی باتیں کرتے ہیں
ہم تو عام سے شاعر ہیں
اور عام سی شاعری کرتے ہیں
کیا ریت ہے کیا رواج یہاں
کیا پریت ہے کیا سماج یہاں
دنیا بیگانی لگتی ہے ان انجانے سے
لوگوں کو ہم بیگانے سے لگتے ہیں
بیگانی باتیں کرتے ہیں
ہم تو عام سے شاعر ہیں
اور عام سی شاعری کرتے ہیں
اونچے اونچے افکار نہیں
اپنی کوئی دبنگ پکار نہیں
ہلکی ہلکی مدھم مدھم
میٹھی سی باتیں کرتے ہیں
ہم تو عام سے شاعر ہیں
اور عام سی شاعری کرتے ہیں
اس دنیا کے مسئلوں کا
کوئی حل تو میرے پاس نہیں
لیکن اپنے مسئلے حل
کرنے کی کوشش کرتے ہیں
اپنی حالت بگڑے تو
ہم اپنے آپ سنورتے ہیں
اور اپنے آپ سدھرتے ہیں
ہم تو ایک عام سے شاعر ہیں
اور عام سی شاعری کرتے ہیں
یہ بھی سچ ہے قطرے میں
قوت پوشیدہ ہوتی ہے
قدم سے قدم ملاتا جائے
قطرے سے قطرہ مل جائے
تو پھر لشکر بنتے ہیں
اور لشکر بن جائے تو
عالم کے عالم سنورتے ہیں
ہم تو اک عام سے شاعر ہیں
اور عام سی شاعری کرتے ہیں
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






